حیدرآباد،29/دسمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا ) اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) اور قومی شہری رجسٹر (این آرسی) ایک ہی سکے کے دو پہلوہیں۔اویسی کے اس دعوے سے ایک دن پہلے ہی مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے واضح کیا تھا کہ ان دونوں میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ اویسی نے دعویٰ کیاہے کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ این پی آر اور این آرسی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ این پی آر اور این آرسی ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔این پی آر اور این آرسی کے قوانین یکساں ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ اصول شہریت قانون 1955 کے مطابق بنائے گئے ہیں جس میں این پی آر اور این آرسی کا ذکر ہے۔اگر ملک میں این پی آر ہوگا تو این آرسی بھی ہوگا۔وہ تنازعات میں گھرے نظر ثانی شہریت قانون، این آرسی اور این پی آر کے خلاف جاری مہم کے تحت نظام آباد میں اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے بی جے پی لیڈروں پر اس معاملے میں ٹی وی چینلز کے ذریعے پروپیگنڈے کرنے کا الزام لگایا۔کچھ بی جے پی لیڈروں کی طرف سے یہ کہنے پر کہ این پی آر کاعمل 2010 میں اس وقت کی یو پی اے حکومت کی طرف سے بھی کرایا گیا تھا اس کا حوالہ دیتے ہوئے اویسی نے کہا کہ 2010 اور 2020 کے این پی آر میں فرق پوچھے جانے والے سوالات کا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2020 کے این پی آر میں اہل خانہ کی جائے پیدائش اور تاریخ پیدائش کو لے کر بھی سوال پوچھے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر این ڈی اے حکومت کا منشا صاف ہوتا تو وہ پہلے این پی آر اور این آرسی پرعمل کراتے اور پھر نظر ثانی شہریت قانون لاتے۔اویسی نے کہاکہ مودی نظر ثانی شہریت قانون کیوں لائے؟وہ اسے اس لئے لے کر آئے کیونکہ اب این پی آر کا عمل ہو جائے گا۔اس اجلاس میں حکمران تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) کے ممبر اسمبلی، بائیں بازو اور دیگر جماعتوں کے نمائندے شامل ہوئے۔